وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عوام پر پڑنے والے مالی بوجھ کو کم کرنے کے لیے وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کا آغاز کر دیا ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق اس اسکیم کا مقصد کم آمدنی والے اور عام شہریوں کو پیٹرول کے اخراجات میں براہ راست ریلیف فراہم کرنا ہے۔ اسکیم کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ، چنگچی سمیت دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں جبکہ 800 سی سی تک کی چھوٹی کاروں کے اہل صارفین کو پیٹرول پر خصوصی رعایت دی جائے گی۔ حکومت نے اس پروگرام کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے چلانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ رجسٹریشن، ٹوکن کے اجرا اور پیٹرول پمپ پر رعایت کے حصول کا عمل نسبتاً آسان اور شفاف بنایا جا سکے۔
سرکاری تفصیلات کے مطابق اہل صارفین کو پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے ریلیف دیا جائے گا۔ دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول پر رعایت مقرر کی گئی ہے، جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے ماہانہ 30 لیٹر تک پیٹرول پر ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے 5 لیٹر کے ٹوکن جاری کیے جائیں گے اور ہر ٹوکن پر 500 روپے تک کا ریلیف حاصل کیا جا سکے گا۔ اسی طرح 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے 10 لیٹر کا ٹوکن ہوگا جس پر 1,000 روپے تک کی رعایت حاصل کی جا سکے گی۔
حکومت کے مطابق اس اسکیم کے لیے رجسٹریشن کا عمل ڈیجیٹل اور نسبتاً آسان رکھا گیا ہے۔ اہل شہری گھر بیٹھے SMS کے ذریعے رجسٹریشن کرا سکتے ہیں۔ رجسٹریشن کے لیے شہری کو اپنا شناختی کارڈ نمبر، گاڑی کا نمبر، گاڑی کی رجسٹریشن کا صوبہ اور گاڑی کی رجسٹریشن کی تاریخ فراہم کرنا ہوگی۔ یہ معلومات مقررہ طریقہ کار کے مطابق 9771 پر SMS کے ذریعے بھیجی جا سکتی ہیں۔ حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ رجسٹریشن کے لیے صرف سرکاری طور پر جاری کردہ طریقہ کار پر عمل کریں اور غیر مصدقہ ویب سائٹس، لنکس یا افراد کو اپنی ذاتی معلومات فراہم نہ کریں۔
وزارتِ اطلاعات و ٹیلی کمیونیکیشن کے مطابق اسکیم کے لیے ایک ڈیجیٹل فیول پاس سسٹم تیار کیا گیا ہے، جس کے ذریعے رجسٹریشن اور ٹوکن کی تصدیق کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ رجسٹرڈ صارف کو پیٹرول حاصل کرنے سے قبل ٹوکن حاصل کرنا ہوگا۔ سرکاری ہدایات کے مطابق صارف TOK لکھ کر 9771 پر SMS بھیج کر فیول ریلیف ٹوکن حاصل کر سکتا ہے۔ ٹوکن موصول ہونے کے بعد صارف متعلقہ پیٹرول اسٹیشن پر جا کر پیغام میں موجود ٹوکن نمبر دکھائے گا، جس کے بعد مخصوص مقدار میں پیٹرول رعایتی قیمت پر فراہم کیا جائے گا۔
سرکاری معلومات کے مطابق دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے جاری ہونے والا 5 لیٹر کا ٹوکن سات دن تک قابل استعمال ہوگا، جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے 10 لیٹر کا ٹوکن دس دن تک قابل استعمال ہوگا۔ اس نظام کا مقصد ٹوکن کے غلط استعمال اور ایک ہی صارف کی جانب سے مقررہ حد سے زیادہ ریلیف حاصل کرنے کے امکانات کو کم کرنا ہے۔ حکومت نے بتایا ہے کہ شناختی کارڈ سے منسلک تصدیقی نظام اور گاڑی کی معلومات کی جانچ کے ذریعے ڈپلیکیٹ یا غیر مجاز دعووں کی روک تھام کی جائے گی۔
اس اسکیم کا دائرہ کار غیر تجارتی استعمال کرنے والے اہل صارفین تک محدود رکھا گیا ہے۔ سرکاری طور پر جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ایک صارف یا مالک کے لیے ایک گاڑی کو ریلیف دیا جائے گا۔ موٹر سائیکلوں اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے مخصوص رجسٹریشن شرائط بھی مقرر کی گئی ہیں، جبکہ 800 سی سی تک کی کاروں کے لیے بھی گاڑی کی رجسٹریشن سے متعلق معیار موجود ہے۔ شہریوں کو رجسٹریشن سے پہلے اپنی گاڑی کی معلومات درست طور پر چیک کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے تاکہ درخواست کے عمل میں غیر ضروری تاخیر یا مسئلہ پیدا نہ ہو۔
وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کا مقصد ایسے وقت میں شہریوں کو سہولت فراہم کرنا ہے جب عالمی اور علاقائی حالات کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے صارفین کے اخراجات کو متاثر کیا ہے۔ حکومت کے مطابق براہ راست فیول ریلیف کے ذریعے عام شہریوں پر پیٹرول کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا کچھ بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔ موٹر سائیکل اور رکشہ استعمال کرنے والے شہریوں کے لیے یہ سہولت خاص طور پر روزمرہ سفر اور آمدنی سے متعلق اخراجات میں اہم ہو سکتی ہے، تاہم اس اسکیم کے حقیقی اثرات کا انحصار اس کے عملی نفاذ اور اہل صارفین تک بروقت رسائی پر ہوگا۔
حکومت نے اسکیم کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھانے کے لیے مختلف ذرائع استعمال کرنے کی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔ متعلقہ حکام کو رجسٹریشن اور دیگر ضروری مراحل کے بارے میں شہریوں کی رہنمائی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں بھی اس بات پر زور دیا گیا کہ شہریوں کو رجسٹریشن کے دوران ہر ممکن رہنمائی فراہم کی جائے اور عوامی نمائندوں و رضاکاروں کو بھی آگاہی کے عمل میں شامل کیا جائے۔ حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ رجسٹریشن کے لیے درکار SMS کو مفت بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کے لیے 75 ارب روپے کی منظوری دی ہے۔ اسکیم کے تحت دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے ہفتہ وار 500 روپے کے مساوی ریلیف اور 800 سی سی تک کی کاروں کے لیے دس دن کی بنیاد پر 1,000 روپے کے مساوی ریلیف کا طریقہ کار بھی بیان کیا گیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق ریلیف کی حد مقررہ ماہانہ فیول مقدار کے ساتھ منسلک ہے اور اسکیم کا انتظام ڈیجیٹل فیول پاس سسٹم کے ذریعے کیا جانا ہے۔
اسکیم کے ملک گیر نفاذ کے حوالے سے حکومت نے بتایا ہے کہ اسلام آباد میں ابتدائی مرحلے کے بعد ملک کے دیگر علاقوں میں بھی اس کا نفاذ کیا گیا۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت ملک بھر کے شہریوں کو بھی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے رجسٹریشن اور ٹوکن کے مقررہ طریقہ کار پر عمل کرنا ہوگا۔ شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تازہ ترین شرائط، اہلیت اور ٹوکن کے طریقہ کار کے بارے میں سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کریں کیونکہ اسکیم کے عملی انتظامات میں وقتاً فوقتاً تبدیلی یا مزید وضاحت سامنے آ سکتی ہے۔
وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق شناختی کارڈ سے منسلک رجسٹریشن، SMS کے ذریعے ٹوکن کا اجرا اور پیٹرول پمپ پر ڈیجیٹل تصدیق کے ذریعے نظام کو شفاف رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے درمیان تعاون کے ذریعے ایسا نظام تیار کیا گیا ہے جس کا مقصد اہل شہریوں تک ریلیف پہنچانا اور غیر مجاز استعمال کو روکنا ہے۔ شہریوں کو کسی بھی مشکوک سرگرمی، غلط کٹوتی یا اسکیم کے نام پر فراڈ کی صورت میں متعلقہ سرکاری اداروں کو اطلاع دینے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ہدفی سبسڈی ایک قلیل مدتی اقدام ہو سکتی ہے، جبکہ طویل مدتی بنیادوں پر توانائی کے شعبے میں اصلاحات، بہتر معاشی منصوبہ بندی اور قیمتوں میں استحکام بھی اہم رہیں گے۔ وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کے حوالے سے بھی اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ مقررہ مالی وسائل کے اندر رہتے ہوئے یہ پروگرام کس حد تک اہل شہریوں کو بروقت فائدہ پہنچاتا ہے۔
شہریوں کے لیے بنیادی بات یہ ہے کہ اگر وہ اسکیم کے لیے اہل ہیں تو اپنی گاڑی اور شناختی معلومات درست رکھنے کے ساتھ سرکاری طریقہ کار کے مطابق رجسٹریشن مکمل کریں۔ رجسٹریشن کے بعد پیٹرول حاصل کرنے سے پہلے مقررہ طریقے سے ٹوکن حاصل کرنا ضروری ہے۔ کسی بھی غیر سرکاری شخص کو CNIC، OTP یا بینک کی معلومات فراہم نہیں کرنی چاہئیں۔ وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم سے متعلق تازہ ترین شرائط، رجسٹریشن کے طریقہ کار اور دیگر معلومات کے لیے سرکاری ذرائع سے تصدیق کرنا سب سے محفوظ طریقہ ہے۔
مجموعی طور پر وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کا بنیادی مقصد پیٹرول کی قیمتوں کے دباؤ سے متاثرہ اہل شہریوں کو محدود اور ہدفی مالی سہولت فراہم کرنا ہے۔ موٹر سائیکل، رکشہ، تین پہیوں والی گاڑیوں اور 800 سی سی تک کی کاروں کے لیے مقررہ مقدار میں پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر تک ریلیف کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکومت نے رجسٹریشن اور ٹوکن کے عمل کو ڈیجیٹل بنانے کے ساتھ ایک گاڑی فی صارف کی حد اور تصدیقی نظام متعارف کرایا ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ اسکیم کے فوائد حاصل کرنے کے لیے مقررہ سرکاری طریقہ کار پر عمل کریں اور کسی بھی غیر مصدقہ معلومات پر اعتماد کرنے سے پہلے متعلقہ حکام سے تصدیق کریں۔